Can the government of Pakistan build aircraft like JF Thunder?

    اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Can the government of Pakistan build aircraft like JF Thunder?

If the government of Pakistan can build an aircraft like JF Thunder, then it is building an engine for a car in the auto industry. What could be the reason for not making it. Also what other high tech devices besides wings

The engine of Pakistani KF-17 is Chinese. ۔ ۔ However, the high-tech industry in Pakistan must first understand that a factory that makes high-tech means engines, etc., in addition to a lot of money, also needs technical skills, which is not possible without slow and continuous experience. ۔ ۔

Such industry existed in Pakistan till 1970-72 but peace be upon Bhutto's nationalization policy after which Pakistani industry became zero from hero. ۔ ۔ And again, these would mean that you have to spend for these processes. ۔ ۔

 These people think it is better to import something than to make it themselves. ۔ ۔
If there is a little strictness on imports then maybe the Pakistani government thought of creating something. The present government tried to do this but the Pakistani economy has become so dependent on imports that even a little strictness stagnates the domestic economy. No one even thinks about high tech.

By the way, in my personal opinion, if Bhutto had been executed for killing the future of Pakistani industry by nationalization instead of a guilty case, then perhaps this would have been the best justice and Bhutto would have really died.
پاکستان کی حکومت جے ایف تھنڈر جیسے طیارے بنا سکتی ہے تو آٹو انڈسٹری میں کسی گاڑی کا انجن بنا رہی ہے. نہ بنانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے.نیز پنکھوں کے علاوہ کون سے ہائی ٹیک آلات بناتی ہے

پاکستانی کے ایف سترہ کا انجن چائنیز ہے۔ ۔ ۔ رہی بات پاکستان میں ہای ٹیک انڈسٹری کو تو سب سے پہلے یہ سمجھیں کے ہای ٹیک مطلب انجن وغیرہ بنانے کی فیکٹری کے لیے بہت زیادہ پیسے کے علاؤہ فنی مہارت کی بھی ضرورت ہے جو آہستہ آہستہ اور مسلسل تجربات کے بغیر ممکن نہیں۔ ۔ ۔

پاکستان میں اس طرح کی انڈسٹری 1970-72 تک موجود تھی لیکن سلام ہے بھٹو صاحب کی نیشنللایزیشن پالیسی کو کہ جس کے بعد پاکستانی انڈسٹری ہیرو سے زیرو بن گیی۔ ۔ ۔ اور پھر خاص یہ کہ ڈینیشنلایزیشن کے وقت جن افراد کو یہ ادارے دییے گیے وہ تمام لوگ سیاسی تھے۔ ۔ ۔

 ان لوگوں کو کوی چیز خود بنانے سے کہیں بہتر یہ لگتا ہے کہ امپورٹ کر لیں۔ ۔ ۔
اگر امپورٹ پر تھوڑی سختی ہو تو شاید پاکستانی انڈسٹری کچھ بنانے کا سوچے موجودہ حکومت نے ایسا کرنے کی کوشش بھی کی لیکن پاکستانی معیشت اس طرح سے امپورٹ پر انحصار کر چکی ہے کہ تھوڑی سی سختی بھی اندرونی معیشت کو جمود کر دیتی ہے اس لیے اب کوی ہای ٹیک کے بارے میں سوچتا بھی نہیں۔

ویسے میری ذاتی رائے میں بھٹو کو قصوری قتل کیس کی بجاے نیشنللایزیشن کر کے پاکستانی انڈسٹری کے مستقبل کو قتل کرنے پر پھانسی دی جاتی تو شاید یہ بہترین انصاف ہوتا اور بھٹو واقعی مر چکا ہوتا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post