Gene Part 4, Gene's century.

    اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Gene Part 4, Gene's century.
Mendel had discovered the law of inheritance, but it remained anonymous for decades. He was rediscovered separately by Carl Corns, a student of Nagelli, a scientist who had discouraged Mendel, a Dutch botanist de Vries, and Shemarck from Vienna. They were reaching similar conclusions. Mendel's experiments are back on the scene. In May 1900, William Bateson read Mendel's work while traveling by train. When he got off the train and reached the lecture hall, he said, "I was dizzy. It was an extraordinary thing and what was extraordinary about it was that it was forgotten. It was my personal mission to never lose sight of that. " Bateson first confirmed his findings through experiments and then traveled to Germany, France, Italy and the United States where he shared. Bateson was called "Mendel's Bulldog" because of his mission. He wrote, “Resolving the entanglement of inheritance will change man's view of this world. It can give it a power over nature that has never been found before. ”
Batesin named this new field Genetics in 1905. "One thing is for sure," he wrote in an article the same year. If not in the UK, then in another country. People will want to break with their past. Would love to play with nature. It is unknown at this time what he will do after leaving the post. When a power comes to man, man uses it. The science of heredity can give great power. Sooner or later, it could lead to the reorganization of nations. It is a different question whether the institution that got this power will use it in a good way or in a bad way. ”
Bateson predicted Jane's century.
.. .. .. .. ...
If hereditary laws are known and used, can a better human race be created? This "dangerous idea" was first proposed by Francis Galton. If we can produce better cattle or plants with this help, then why not a better man and a better nation? Quitlett published a table measuring the breasts and height of 5,738 soldiers. It all became a bull. Most people are close to the average and then spread around in a way. Galton looked at it and asked if such qualities as intelligence and beauty could be measured in this way. Can this graph be moved in the desired direction in a population?
.. .. .. .. .. ...
Bateson was busy promoting Jane's concept, but now he was only defined by what Jane did. What is a gene? What is its chemical or physical nature? How does genetic instruction (genotype) change into physical trait (phenotype)? How does it move forward? Where does he live How is it regulated? If it's discrete then why is height, skin color in a constant do? What are its limits? What is the key to unlock it?
It was all unknown.
Gene science also tells us its history. Unlock the secrets of life. Helped make the most important treatments and medicines. But before that
In the name of Jane and against Jane ... Inheritance or training ... The darkest chapter of the twentieth century was to be written by Jane.
.. .. .. .. .. ...
Just as agriculture is the applied form of botany, so is the applied form of genetics eugenics conceived by Galton. "Nature is slow, cruel and blind. Humans can direct this process at will. ” This was Galton's 1904 lecture in London. "A healthy person is better than a sick person. Don't we want future generations to be healthier, stronger, more intelligent and more capable? Isn't it our moral responsibility to do so? ” Galton suggested that healthy and strong people be bred. "If the right social pressure can be put in place and people with disabilities can be prevented from breeding, we will take steps to build a better society."
.. .. .. .. .. ...
Even before Galton's lecture was over, the chatter had begun. The first attack was carried out by a psychiatrist, Hunder Modsley. "Children with schizophrenia are born in a normal father's home. Extraordinary people are born in ordinary homes. The most famous English language writer was born in the house of an anonymous glove maker. He had five brothers, but only William turned out to be unusual. Newton was a sick and weak boy. John Calvin had asthma. Darwin had many ailments. Herbert Spencer spent most of his life ill.
Bateson's speech was last. "Galton's views are based on error. They are looking at the phenotype. Information is not in the genotype. Weight, height, beauty, intelligence are the shadows of genetic traits. ”
.. .. .. .. .. ...
The worst atrocities in history have been committed in the name of a great cause and good deed. Galton's idea was unpopular at the time, but a dangerous idea was sown.
The first international conference on eugenics was held on July 24, 1912, a year after Galton's death, at the Cecil Hotel in London. The two speeches were terribly lively and foretold the times to come. On the "ethnic hygiene" of the first German scientist Alfred Plutz. It described how work was being done in Germany to develop procedures for ethnic cleansing. The committee is working on how to extract defective genetic material from the United States by another US delegation. Planning to establish colonies to prevent leprosy, delinquent, deaf and dumb, mentally retarded, visually impaired, dwarf, deformed, demented, insane, depressed

جین کی صدی ۔ جین (4)
مینڈیل نے وراثت کا قانون دریافت کر لیا تھا لیکن کئی دہائیوں تک یہ گمنام پڑا رہا۔ مینڈیل کی حوصلہ شکنی کرنے والے سائنسدان ناگیلی کے طالب علم کارل کورنز، ڈچ ماہرِ نباتات ڈی ورائز اور ویانا سے تعلق رکھنے والے شیمارک نے ان کو دوبارہ الگ الگ دریافت کیا۔ وہ بھی اسی طرح کے نتائج تک پہنچ رہے تھے۔ مینڈیل کے تجربات واپس منظرِ عام پر آ گئے۔ مئی 1900 میں ولیم بیٹسن نے ٹرین پر سفر کرتے وقت مینڈیل کا کام پڑھا۔ جب وہ ٹرین سے اتر کر لیکچر ہال پہنچے تو کہتے ہیں “میرا سر چکرا رہا تھا۔ یہ غیرمعمولی کام تھا اور اس سے غیرمعمولی یہ تھا کہ اس کو فراموش کر دیا گیا تھا۔ یہ اب میرا ذاتی مشن تھا کہ اب اس کو کبھی نظرانداز نہ کیا جائے”۔ بیٹسن نے پہلے ان کے نتائج کو تجربات کے ذریعے کنفرم کیا اور پھر جرمنی، فرانس، اٹلی اور امریکہ کا سفر کیا جس میں اس کو شئیر کیا گیا۔ بیٹسن اپنے اس مشن کی وجہ سے “مینڈیل کے بلڈاگ” کہلائے۔ انہوں نے لکھا، “وراثت کی گتھی سلجھانا انسان کا اس دنیا کے بارے میں نقطہ نظر بدل دے گا۔ اسے فطرت پر ایسی طاقت دے سکتا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ملی”۔
اس نئے شعبے کا نام بیٹسین نے 1905 میں Genetics (جینیات) رکھا۔ اسی سال اپنے ایک مضمون میں لکھا، “ایک چیز یقینی ہے۔ اگر برطانیہ میں نہیں تو کسی اور ملک میں۔ لوگ اپنے ماضی سے رشتہ توڑنا چاہیں گے۔ فطرت سے کھیلنا چاہیں گے۔ معلوم نہیں اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔ جب کوئی طاقت انسان کے پاس آتی ہے تو انسان اس کو استعمال کرتا ہے۔ وراثت کی سائنس بڑے پیمانے پر طاقت دے سکتی ہے۔ جلد یا بدیر، اس سے قوموں کی تشکیلِ نو بھی کی جا سکتی ہے۔ جس ادارے کے پاس یہ طاقت آ گئی، وہ اچھے طریقے سے استعمال کرے گا یا برے طریقے سے، یہ الگ سوال ہے”۔
بیٹسن نے جین کی صدی کی پیشگوئی کر دی تھی۔
اگر وراثتی قوانین کا علم ہو گیا اور ان کو استعمال کر لیا جائے تو کیا بہتر انسانی نسل تیار کی جا سکتی ہے؟ یہ “خطرناک خیال” سب سے پہلے فرانسس گالٹن نے پیش کیا۔ اگر ہم بہتر مویشی یا پودے اس مدد سے پیدا کر سکتے ہیں تو بہتر انسان اور بہتر قوم کیوں نہیں؟ کوئٹلٹ نے فوجیوں کی چھاتیاں اور قد ناپ کر 5738 فوجیوں کی پیمائش کا ٹیبل شائع کیا تھا۔ یہ سب ایک بیل کرو بنتا تھا۔ زیادہ لوگ اوسط کے قریب اور پھر اس کے گرد ایک طریقے سے پھیلے ہوئے۔ گالٹن نے اس کو دیکھ کر سوال کیا کہ کیا ذہانت اور خوبصورتی جیسی خاصیتوں کی بھی اس طرح پیمائش کی جا سکتی ہے؟ کیا اس گراف کو ایک آبادی میں مطلوبہ سمت میں لے جایا جا سکتا ہے؟
بیٹسن جین کے تصور کے پرچار میں تو مصروف تھے لیکن ابھی اس کی تعریف صرف اس سے ہوتی تھی کہ جین کرتی کیا ہے۔ جین کیا ہے؟ اس کی کیمیکل یا فزیکل نیچر کیا ہے؟ جینیاتی انسٹرکشن (جینوٹائپ) کیسے فزیکل خاصیت (فینوٹائپ) میں تبدیل ہوتی ہے؟ یہ آگے کس طریقے سے منتقل ہوتی ہے؟ رہتی کہاں پر ہے؟ ریگولیٹ کیسے ہوتی ہے؟ اگر یہ ڈسکریٹ ہے تو پھر قد، جلد کا رنگ ایک مسلسل کرو میں کیوں ہے؟ اس کی حدود کیا ہیں؟ اس کا تالا کھولنے کی چابی کیا ہے؟
یہ سب نامعلوم تھا۔
جین کی سائنس نے ہمیں اپنی تاریخ سے بھی آگاہ کیا۔ زندگی کے راز کھولے۔ اہم ترین علاج اور ادویات بنانے میں مدد کی۔ لیکن اس سے پہلے
جین کے نام پر اور جین کے خلاف ۔۔۔ وراثت یا تربیت ۔۔۔ بیسویں صدی کے سیاہ ترین باب جین نے لکھنے تھے۔
جس طرح زراعت علمِ نباتات کی اپلائیڈ شکل ہے، ویسے ہی جینیات کی اپلائیڈ شکل یوجینکس کا تصور گالٹن نے دیا۔ “فطرت سست، ظالم اور اندھی ہے۔ انسانی اس عمل کو مرضی سے سمت دے سکتا ہے”۔ یہ گالٹن کا لندن میں 1904 میں دیا گیا لیکچر تھا۔ “ایک صحت مند ایک بیمار سے بہتر ہے۔ کیا ہم نہیں چاہیں گے کہ آئندہ آنے والی نسلیں صحت مند، توانا، ذہین اور زیادہ قابلیت والی ہوں؟ کیا ایسا کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری نہیں؟”۔ گالٹن نے تجویز پیش کی کہ صحت مند اور مضبوط لوگوں سے نسل آگے بڑھائی جائے۔ اگر ٹھیک سوشل پریشر ڈالا جا سکے اور معذور یا کمزور لوگوں کو نسل بڑھانے سے روکا جا سکے تو ہم ایک بہتر معاشرہ بنانے کی طرف قدم اٹھا لیں گے”۔
گالٹن کا لیکچر ختم ہونے سے پہلے ہی ہال چہ میگوئیاں شروع ہو گئی تھیں۔ پہلا حملہ ایک سائیکیٹرسٹ ہندر ماڈسلے نے کیا۔ “نارمل والد کے گھر شٹزوفرینیا کا شکار بچے پیدا ہوتے ہیں۔ عام گھروں میں غیرمعمولی لوگ پیدا ہوتے ہیں۔ ایک گمنام دستانے بنانے والے کے گھر انگریزی زبان کا سب سے مشہور ادیب پیدا ہوا۔ اس کے پانچ بھائی تھے لیکن صرف ولیم ہی غیرمعمولی نکلا۔ نیوٹن ایک بیمار اور کمزور لڑکا تھا۔ جان کیلون دمے کا مریض تھا۔ ڈارون کو کئی عارضے لاحق تھے۔ ہربرٹ سپنسر نے اپنی زندگی کا بڑا وقت علالت میں گزارا”۔
بیٹسن کی تقریر سب سے آخر میں تھی۔ “گالٹن کے خیالات کی بنیاد ہی غلطی پر ہے۔ وہ فینوٹائپ دیکھ رہے ہیں۔ انفارمیشن اس میں نہیں جینوٹائپ میں ہوتی ہے۔ وزن، قد، خوبصورتی، ذہانت جینیاتی خاصیتوں کی پرچھائیں ہیں”۔
تاریخ کے بدترین مظالم کسی عظیم مقصد اور اچھائی کئے نام پر ہوتے رہے ہیں۔ گالٹن کا خیال اس وقت پسند نہیں کیا گیا لیکن خطرناک خیال کا بیج بو دیا گیا تھا۔
گالٹن کے انتقال کے ایک برس بعد 24 جولائی 1912 کو یوجینکس پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس لندن کے سیسل ہوٹل میں ہوئی۔ اس میں دی جانے والی دو تقاریر خوفناک حد تک جوشیلی تھیں اور آنے والے وقتوں کا بتا رہی تھیں۔ پہلی جرمن سائنسدان الفریڈ پلوٹز کی “نسلی ہائی جین” پر۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ جرمنی میں کیسے نسلی صفائی کے لئے طریقہ کار وضع کرنے پر کام ہو رہا ہے۔ دوسری امریکی وفد کی طرف سے کہ امریکہ سے کیسے جینیات میں سے ناقص مال نکالنے پر کوشش کمیٹی کام کر رہی ہے۔ جذام والے، مجرم، گونگے اور بہرے، ذہنی کمزوری کا شکار، خراب آنکھوں والے، بونے، خراب ہڈیوں والے، ناقص العقل، پاگل، ڈیپریشن والوں کو نسل آگے بڑھانے سے روکنے کے لئے کالونیاں قائم کرنے کی پلاننگ مکمل ہے۔ دس فیصد آبادی کمتر لوگوں کی ہے۔ یہ مفید لوگوں کے والدین نہیں بن سکتے۔ آٹھ ریاستوں میں اس بارے میں قوانین منظور ہو چکے ہیں۔ سٹیریلائزیشن کی جا چکی ہے اور ان آپریشنز میں سے بھی کوئی مضر اثر نہیں نکلا۔ ہم ذمہ داری اور بہت احتیاط کے ساتھ بائیولوجی کو استعمال کر کے ایک بہتر نسل تیار کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔
امریکہ میں 1920 کی دہائی میں یوجینکس کا خیال مقبول ہونے لگا۔ اس کے حق میں اور خلاف ہونے والے مظاہروں کے بیچ یوجینکس کی تحریک، قید سے سٹیرئلائزیشن اور سٹیرئلازیشن سے قتل کا رخ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ریاستی حکم پر کسی کو اس کی مرضی کے بغیر سٹیریلائز کیا جا سکتا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ “شیطان خوبصورت لبادے میں آتا ہے”۔ جینیاتی فٹنس کا خوفناک خیال ایک خطرناک بیماری کی طرح بحرِاوقیانوس کے پار پورے برِاعظم کو اپنے خون آشام پنجے کی گرفت میں لے رہا تھا۔
(جاری ہے)
ساتھ لگی تصویر یوجینکس کے ایک پراپیگنڈہ پوسٹر کی ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post