The Story of Computer Networks (Internet) Part2

    اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

The Story of Computer Networks (Internet) (Episode 2)
Wherever there is talk of the Internet, it is said that the Internet was founded by the US Department of Defense. This is an incomplete sentence and it is not entirely true.
Advance Research Project Agency Network (ARPANET)
Was founded in 1966 by the US Department of Defense with Bob Taylor taking over the initial charge. Bob hired Larry Roberts as program manager. Larry Roberts not only adopted the ideas of John Davis and Paul Byrne, but also included Paul Byrne with him in the project, and assigned the project to BBN Technologies to create the first protocol using packet switching.
Protocol refers to the rules and regulations by which data packets are to be moved from one place to another. Any protocol gives us answers to three questions
1- In which form will the data be sent?
2- How will the connection between the sender and the receiver be established?
3- If there is a technical problem in communication, how will it be solved?
Any protocol performs the required tasks using only software, hardware or both.
And the task of creating the world's first network protocol was entrusted to BBN Technologies. Why was this task assigned to BBN Technologies? Because the company was overseen by three computer scientists.
Bolt, Beranek, & Newman
All three are bright stars in the history of computer science. Together they created the world's first network protocol.
Program Manager Larry Roberts hired Leonard Kleinark to create the network meth. And so in 1969 the first American network was formed.
On the other hand, at the National Physical Laboratory in London, Donald Davis had conducted a pilot experiment on his design in 1967. In 1969 he started running the network on Mark I. By 1970, it was fully operational.
Two different networks were formed in two different parts of the world. The difference between the two was that the scope of one was only inside the laboratory. Scientists around the world used the network to store their data in computers, while ARPANET became widely used for communication. The US Department of Defense has extended the use of this network to its other branches.
The NPL's network was called the Local Area Network because it was limited to one building while the ARPANET had expanded and the various armed forces centers in the city were using it to communicate with each other. That is why it is called Wide Area Network.
But the story does not end there. During this time many other important inventions were made in the world of computing which were going to bring new problems for the Internet.

کمپیوٹر نیٹ ورکس ( انٹرنیٹ ) کی کہانی (قسط نمبر -2 )
جہاں کہیں بھی انٹرنیٹ کے حوالے سے بات ہو رہی ہوتی ہے تو یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ کی بنیاد امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس نے رکھی تھی۔ یہ ایک ادھورا جملہ ہے اور یہ بات پوری طرح سے درست نہیں۔
Advance Research Project Agency Network (ARPANET)
کی بنیاد 1966 میں امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس نے رکھی جبکہ ابتدائی چارج Bob Taylor کو سونپا گیا۔ باب نے Larry Roberts کو پروگرام مینیجر کے طور پر ہائیر کیا۔ Larry Roberts نے جان ڈیویئس اور پال بیئرن کے نظریات کو ناصرف اپنایا بلکہ پال بیئرن کو اپنے ساتھ اس پروجیکٹ میں شامل کر لیا، اور پیکٹ سوئچنگ کا استعمال کرتے ہوۓ BBN Technologies کو پہلا پروٹوکول بنانے کا پروجیکٹ سونپا۔
پروٹوکول سے مراد وہ قوانین و ضوابط جن پر عمل کرتے ہوۓ ڈیٹا پیکٹس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجا جانا تھا ۔ کوئی بھی پروٹوکول ہمیں تین سوالات کے جوابات دیتا ہے
1- ڈیٹا کس فارم میں بھیجا جاۓ گا ؟
2- سینڈر اور ریسیور کے درمیان رابطہ کیسے قائم ہو گا ؟
3- اگر رابطے میں کوئی تیکنیکی مسئلہ درپیش ہوا تو اسکا حل کیسے نکالا جاۓ گا۔؟
کوئی بھی پروٹوکول مطلوبہ کام فقط سافٹ ویئر، ہارڈویئر یا پھر دونوں کا استعمال کرتے ہوۓ سر انجام دیتا ہے۔
اور دنیا کا پہلا نیٹ ورک پروٹوکول بنانے کا کام BBN ٹیکنالوجیز کو سونپ دیا گیا تھا۔ یہ کام BBN Technologiesکو ہی کیوں سونپا گیا تھا ؟ اس لیۓ کیونکہ یہ کمپنی تین کمپیوٹر سائنٹس کی نگرانی میں تھی ۔
Bolt , Beranek, & Newman
تینوں ہی کمپیوٹر سائنس کی تاریخ کے روشن ستارے ہیں۔ انہوں نے ملکر دنیا کا پہلا نیٹ ورک پروٹوکول بنایا۔
پروگرام مینیجر لیری رابرٹ نے لیونارڈ کلینارک کو نیٹ ورک کی میتھ بنانے کا کام سونپا۔ اور یوں 1969 میں پہلا امریکی نیٹ ورک بنا۔
دوسری طرف لندن میں نیشنل فزیکل لیبارٹری میں ڈونلڈ ڈیوئیس اپنے ڈیزائن پر پائلٹ ایکسپیریمنٹ 1967 میں ہی کر چکے تھے۔ 1969 میں انہوں نے Mark I پر نیٹ ورک چلانا شروع کر دیا تھا۔ جبکہ 1970 میں یہ پوری طرح سے آپریشنل ہو چکا تھا۔
دنیا کے دو مختلف حصوں میں دو مختلف نیٹورکس بن چکے تھے۔ دونوں کے درمیان فرق یہ تھا کہ ایک کا دائرہ کار صرف لیبارٹری کے اندر تک تھا۔ جہان سائنٹسٹس نیٹ ورک کا استعمال اپنے ڈیٹا کو کمپیوٹر میں محفوظ کرنے کے کیۓ کرتے تھے جبکہ دوسری طرف ARPANET وسیع پیمانے پر کمیونیکشن کے لیۓ استعمال ہونے لگا۔ امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفینس نے اس نیٹ ورک کے استعمال کا دائرہ اپنی باقی برانچز تک بڑھا دیا تھا۔
۔NPL کا نیٹ ورک لوکل ایریا نیٹورک کہلایا کیونکہ وہ صرف ایک بلڈنگ تک محدود تھا جبکہ ARPANET وسیع ہو چکا تھا اور شہر میں مختلف مسلح افواج کے سینٹرز آپس میں کمیونیکیشن کرنے کے لیۓ اس کا استعمال کر رہے تھے۔ اس لیۓ اسے Wide Area Network کا نام دیا گیا۔
لیکن کہانی یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ کمپیوٹنگ کی دنیا میں اس سارے عرصے میں اور بھی بہت ساری اہم ایجادات ہوئیں تھیں جو انٹرنیٹورک (انٹرنیٹ) کے لیۓ نۓ مسائل لانے والی تھیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post